ایک زمانے تک ادبی نقاد کے بنیادی وسائل کتاب، لغت، قلم، حاشیہ اور اپنی تربیت یافتہ ادبی حس تھے۔ متن سامنے تی اور پھر کسی تخلیق کے فنی یا فکری مرتبے کے بارے میں رائے قائم کی جاتی۔ تنقید کا یہ طریقہ ختم نہیں ہوا اور نہ اسے ختم ہونا چاہیے، مگر ادبی مطالعے کی دنیا اب کہیں زیادہ وسیع ہو چکی ہے۔ بیانیات نے قصے کے اندر واقعہ، راوی، وقت اور نقطہ نظر کے رشتے کو الگ کرکے دیکھنا سکھایا۔ اسلوبیات نے زبان کے چھوٹے انتخاب کو قابل پیمائش ادبی شہادت بنایا۔مکمل پڑھیے
تحقیقی مقالہ اکثر اس مقام پر کمزور نہیں ہوتا جہاں حوالہ کم ہو بلکہ وہاں کمزور ہوتا ہے جہاں حوالہ دعوے سے چھوٹا ہو۔ ایک کتاب میں کسی واقعے کا ذکر ملا اور محقق نے اسے پورے عہد کی نمائندہ حقیقت قرار دے دیا۔ کسی شاعر کا ایک خط سامنے آیا اور اس کی بنیاد پر پوری شخصیت کا نفسیاتی فیصلہ لکھ دیا گیا۔ مکمل پڑھیے
کسی پرانی اردو کتاب کا صاف ستھرا اسکین انٹرنیٹ پر رکھ دینا بلاشبہ علمی خدمت ہے۔ کتاب جو کبھی کسی مخصوص کتب خانے، نجی ذخیرے یا شکستہ جلد کے اندر محدود تھی، دنیا کے دوسرے حصے میں بیٹھے قاری تک پہنچ جاتی ہے۔۔ مکمل پڑھیے
لڑکی پڑھ لے تو معاملہ کسی حد تک گھر کے اختیار میں رہ سکتا ہے۔ کتاب کون سی ہوگی، سبق کون پڑھائے گا اور علم کی حد کہاں مقرر ہوگی، خاندان ان سب پر نگاہ رکھ سکتا ہے۔ مشکل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب لڑکی لکھنا سیکھ جائے۔ مکمل پڑھیے
چوری کا لفظ سنتے ہی ذہن میں کسی ممنوع عمل، چھپی ہوئی حرکت اور دوسرے کی ملکیت پر ناجائز تصرف کا خیال آتا ہے۔ وزیر آغا اسی مانوس لفظ کو اپنے انشائیے میں پکڑتے ہیں اور تھوڑی دیر بعد قاری کو احساس ہونے لگتا ہے کہ معاملہ قانون کی کتاب یا اخلاقی نصیحت کا نہیں رہا۔ لفظ اپنی جگہ سے سرک چکا ہے۔ کمل پڑھیے
پاکستان میں ۲۰۱۲ء اور ۲۰۱۳ء کا عرصہ ایک ایسے سیاسی ماحول کی نمائندگی کرتا ہے جس میں جمہوری تسلسل کی امید، ریاستی اداروں کے باہمی تعلق، آئینی اختیار، مذہبی و سیاسی کشمکش، عدالتی فعالیت اور آئندہ انتخابات سے وابستہ سوال ایک ساتھ موجود تھے۔ اخباری کالم نگاری کے لیے یہ صورت حال غیر معمولی طور پر زرخیز تھی۔ مکلمل پڑھیے
ایک آدمی نے کبھی کائنات فتح کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ منصوبہ معمولی نہیں تھا اور دعویٰ بھی ایسا تھا جس کے سامنے روزمرہ زندگی بہت چھوٹی دکھائی دینی چاہیے تھی۔ اتفاق یہ ہوا کہ بچے کے نرسری میں داخلے، اہلیہ کے ہسپتال اور گھر کے دوسرے کاموں نے اس عظیم منصوبے کو مؤخر کر دیا۔ مکمل پڑھیے
شہزادہ خورشید گوہر پوش شکار کے تعاقب میں اپنے ساتھیوں سے جدا ہو کر ایک ایسے باغ تک پہنچتا ہے جس کی چمک دمک معمول کی دنیا سے تعلق نہیں رکھتی۔ جواہر، پانی، پھول، روشنی اور آئینوں سے آراستہ فضا میں ایک نورانی پیر مرد قرآن کی تلاوت کرتا دکھائی دیتا ہے۔ مسافر کی خاطر تواضع ہوتی ہے، قیام کی اجازت بھی ملتی ہے، مگر بارہ دری کا ایک حصہ اس کے لیے ممنوع قرار پاتا ہے۔مکمل پڑھیے
سمندری مواصلاتی نظام یعنی Sea Lines of Communication یا ایس-ایل-او-سیز (SLOCs) وہ راستے ہیں جو کہ دنیا بھر کی بندرگاہوں کو آپس میں ملانے اور عالمی تجارت کے فروغ کا کام کرتے ہیں۔ ان کو علاقائی معیشت کی شریانیں بھی کہا جاتا ہے۔ مکمل پڑھیے
دنیا میں شاید ہی کوئی باپ اپنی اولاد کی ناکامی چاہتا ہو۔ وہ محنت اور قربانی سے بچے کو ان ٹھوکروں سے بچانا چاہتا ہے جن سے وہ خود گزرا۔ یہ جذبہ، محبت اور ذمہ داری ہے، مگر کبھی محبت میں خوف اور اختیار شامل ہو کر ایسی دیوار بن جاتے ہیں جس کے پیچھے بچے کی خواہش، صلاحیت، اعتماد اور شناخت دبنے لگتی ہے۔ باپ سمجھتا ہے کہ وہ راستہ بنا رہا ہے، مگر انجانے میں اسے بند کر دیتا ہے۔
یہاں رب نے واضح کر دیا کہ وہ "رب المسلمین" نہیں بلکہ "رب العالمین" ہے۔ عالمین میں مومن، کافر، چرند، پرند اور پوری کہکشائیں شامل ہیں۔ اس کا نظامِ ربوبیت (پالنا) سب کے لیے یکساں ہے۔ سورج کی روشنی ہو یا بارش کا پانی، اس کی عطا یہ امتیاز نہیں کرتی کہ مستفید ہونے والا سجدہ گزار ہے یا منکر۔ جو اس کے کائناتی قوانین کی پیروی کرے گا، وہ اس کی ربوبیت سے فائدہ اٹھائے گا۔ مکمل پڑھیے
والدین عموماً اپنے بچوں کی اچھی تعلیم، بہتر صحت اور روشن مستقبل کے لیے بے شمار کوششیں کرتے ہیں۔ وہ انہیں بہترین اسکولوں میں داخل کرواتے ہیں، نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیتے ہیں اور ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مکمل پڑھیے
غالب نے ایک موقع پر یہ بھی کہا تھا کہ انہیں آم اتنے ہی پسند ہیں جتنے انگور۔ آم کا اصل وطن جنوبی اور جنوب مغربی ایشیا مانا جاتا ہے، لیکن آج یہ دنیا کے تمام گرم اور استوائی خطوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ دنیا کا واحد پھل ہے جسے بیک وقت پاکستان اور بھارت دونوں اپنا قومی پھل قرار دیتے ہیں، اور اس پر کبھی کسی قسم کا تنازعہ بھی نہیں اٹھا۔مکمل پڑھیے
زندگی کے مختلف نشیب و فراز کے ساتھ ساتھ معاشی معاملات بھی انسان کی بنیادی ضرورتوں میں سے ایک ہیں۔ ان معاملات میں آنے والے اتار چڑھاؤ کو یکساں رکھنے کے لیے انسان مسلسل حالتِ سفر میں رہتا ہے، گویا یہ سفر بھی انسان کے لیے کسی ناگزیر جنگ سے کم نہیں ہوتا. مکمل پڑھیے
اُردو زبان اپنی ساخت، تاریخی ارتقا اور کثیر اللسانی اثرات کے باعث ایک منفرد لسانی حیثیت رکھتی ہے، تاہم یہی تنوع اس کے املا کے مسائل کو بھی پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ املا، جو کسی زبان کے الفاظ کو درست قواعد کے مطابق لکھنے کا نام ہے، زبان کی تحریری صحت اور مؤثر ترسیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔مکمل پڑھیے
سماجی سائنس کا مطالعہ کیا جائے تو ادب اور سماج کا رشتہ ایک اٹوٹ تعلق کی صورت اختیار کر چکا ہے، جسے دوسرے الفاظ میں سیاسی ادب بھی کہا جاتا ہے۔ ایسا ادب جو سماج میں محنت کشوں، دہقانوں، خواتین اور مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے ابھرنے والی ہر تحریک کی ترجمانی کرے، سیاسی یا ترقی پسند ادب کہلاتا ہے۔ مکمل پڑھیے
غریبِ شہر کی چیخیں جو تم نہیں سنتے
امیرِ شہر تمہارا ہے ایک حل- ماتم
حیات بار اٹھائے ہیں ہم سسکتے ہوئے
ہر ایک لمحہ مصیبت، ہر ایک پل ماتم
اب رہا جاتا نہیں ہے اس کے بِن، دو چار دن
روح! تُو لوٹے گی یوں لمحے نہ گن، دو چار دن
اک خصم جورو سے اپنی کہہ رہا تھا عجز سے
آ کے اپنے ساتھ جو رہ لے بہن، دو چار دن
کچھ بھی حالات رہیں اس کی طرف جائیں گے
دل ہتھیلی پہ لیئے، جان بکف جائیں گے
آج چھٹکارا ملے گا اسے زنداں سے، مدام
گیت ہم گاتے ہوئے دست بدف جائیں گے
آج جب ہم معاشرے کے زوال پر بات کرتے ہیں تو ہماری نظریں سب سے پہلے حکومتی ایوانوں یا معاشی حالات پر جا ٹکتی ہیں۔ حالانکہ ایک اہم ترین پہلو جسے ہم مکمل طور پر نظر انداز کیے ہوئے ہیں، وہ ہماری 'مذہبی بے راہ روی' ہے۔ مکلمل پڑھیے
عہدِ حاضر کی تہذیبی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ایک لرزہ خیز تضاد سامنے آتا ہے۔ ہم نے مادی ترقی کے جن زینوں کو سر کیا ہے، اس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ شیشے اور اسٹیل کے فلک بوس مینار آج ہماری طاقت کا استعارہ بن چکے ہیں، مگر اس عروج کے عقب میں ایک ایسی ویرانی پنپ رہی ہے جسے ہم نے ترقی کی چمک دمک میں دفن کر دیا ہے۔ مکمل پڑھیے
جدید اردو نظم کے منظرنامے میں فرخ یار ایک ایسی توانا اور منفرد آواز ہیں جن کی شاعری فکری گہرائی، تجرباتِ زیست اور اسلوبیاتی ندرت کا حسین امتزاج ہے۔ ان کے شعری کینوس پر داخلیت اور خارجیت اس طرح باہم دست و گریبان نظر آتے ہیں کہ قاری ایک نئے حسی اور فکری تجربے سے دوچار ہوتا ہے۔کمل پڑھیے
لسانیات کی رو سے زبان ایک ایسا حیاتی اور متحرک نظام ہے جس کے ذریعے ایک انسان اپنے مافی الضمیر کو دوسرے فرد تک پہنچاتا ہے، یا دوسرے انسانی گروہ سے اپنا رشتہ جوڑ کر ابلاغ کی راہیں استوار کرتا ہے۔ زبان کے وجود میں سوچ اور آواز کا وسیلہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ اس کے بولنے کے عمل کو تقریر یا کلام اور اسے تحریری قالب میں ڈھالنے کو تحریر کہا جاتا ہے۔مل پڑھیے
موجودہ دور کو اگر ڈیجیٹل عہد کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر جنریشن زی، جسے عام طور پر جین زی کہا جاتا ہے، ایک ایسی نسل ہے جو ٹیکنالوجی کے ساتھ پروان چڑھی ہے۔ اس نسل کے لیے سوشل میڈیا صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ معلومات، تعلیم، تعلقات، اظہارِ رائے اور شناخت کا ایک اہم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ تاہم اس کے بے شمار فوائد کے ساتھ ساتھ کچھ نفسیاتی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔مکمل پڑھیے
انسانی معاشرہ اپنی فطرت میں تنوع سے بھرپور ہے۔ دنیا میں کوئی دو افراد مکمل طور پر ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ہر شخص کی سوچ، جذبات، صلاحیتیں اور سیکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں ماہرینِ نفسیات اور اعصابی علوم نے اس حقیقت پر زور دیا ہے کہ دماغی اور عصبی اختلافات کو بیماری یا کمزوری سمجھنے کے بجائے انسانی تنوع کے ایک فطری حصے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
مکمل پڑھیے
بقول ڈاکٹر ھارون:
زبان کو ایک پراصرار بھید بھری سماجی فعالیت بھی کہا جاتا ہے اہل دانش و فلسفہ نے ہمیشہ اس کے پوشیدہ سحرکاریوں کا ادراک ایک مشتاق کی حیثیت سے کرنے پر زور دیا ہے زبان فہمی کا سارا عمل بنیادی طور پر تشکیل زبان کے ایسے تصورات سے عبارت ہے کہ زبان میں درآنے والا ہر لفظ اپنی مخصوص لسانی ثقافت کا حامل ہوتا ہے مگر اظہار و بیان کے سلسلے میں اس کے معنی اور مفہوم کو سمجھنے کا نظام" ساختیات "کہلاتا ہے۔ ساختیات کا لفظ فارسی کی زبان کے لفظ ساخت سے ماخوذ ہے جس کا مصدر ”ساختن "ہے جس کے معنی بنانا ، گھڑنا ،ا یجاد کرنا اوروضع کرنا کے ہیں۔یہ لسانی فلسفہ ایک ادبی اصطلاح ہے انگریزی میں اس کے لیے " اسٹرکچرلزم "کی اصطلاح مستعمل ہے۔ مکمل پڑھیے
"علم تا از عشق برخوردار نیست
جز تماشہ خانہء افکار نیست"
ترجمہ: علم جب تک عقل سے پھل کھانے والا اور فیض اٹھانے والا نہ ہو، وہ افکار کے تماشہ خانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
مسلم تاریخ اور عالمی علوم و فنون کے آسمان پر ابوریحان البیرونی ایک ایسا روشن عنوان ہے جس کی چمک ایک ہزار سال گزرنے کے بعد بھی ماند نہیں پڑی۔ وہ ایک ایسی عظیم اور کثیر الجہتی شخصیت تھے جن کی نظیر نہ ان کے اپنے دور میں ملتی ہے اور نہ ہی ان کے بعد۔ کمل پڑھیے
اکیسویں صدی کے سماجی اور ادبی علوم میں "تانیثیت" (Feminism) اور "نسائیت" (Femininity) کی اصطلاحات ایک نہایت پیچیدہ اور کثیر الجہتی بحث کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ یہ محض لغوی مترادفات نہیں ہیں، بلکہ ان کے پیچھے صدیوں پر محیط ایک ایسا فکری سفر کارفرما ہے جس نے انسانی سماج میں صنف، طاقت اور شناخت کے تصورات کو جڑ سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مکمل پڑھیے
ادبی تحریک سے مراد ادب میں کسی نئے رجحان، نظریے یا طرزِ اظہار کا ظہور ہے جو کسی خاص دور کے فکری، معاشرتی، سیاسی یا تہذیبی پس منظر میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ تحریکیں پرانے جمود کو توڑ کر ادب کو ایک نئی سمت دیتی ہیں۔ ادب ہمیشہ ساکت نہیں رہتا بلکہ انسانی فکر اور معاشرے کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ معاشرتی، سیاسی، مذہبی یا سائنسی تبدیلیاں جب عام انسان کے رویوں کو متاثر کرتی ہیں، تو ان کا عکس ادب میں بھی نظر آتا ہے۔ اسی ردعمل کے طور پر ایک نیا رجحان جنم لیتا ہے، جو بعد میں ایک باقاعدہ تحریک کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔مکمل پڑھیے
زبان انسانی خیالات، مقتضیات اور تہذیبی اقدار کی عکاس ہوتی ہے۔ کسی بھی زبان کو علمی اور ادبی سطح پر کماحقہ سمجھنے اور اسے لغزشوں سے محفوظ رکھنے کے لیے قواعد و ضوابط کا مرتب ہونا ناگزیر ہے۔ اردو زبان کی وسعت، اس کی ساخت اور صوتیاتی نظام کو سمجھنے کے لیے علمِ صرف بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔مکمل پڑھیے
اردو زبان و ادب کی تشکیل اور ارتقاء کی داستان محض لسانی تغیرات یا الفاظ کے ذخیرے میں اضافے کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ برصغیر پاک و ہند کی ہزار سالہ گنگا جمنی تہذیب، سماجی رویوں، مذہبی رواداری اور جمالیاتی اقدار کے باہم پیوست ہونے کا ایک زندہ عمل ہے۔ برصغیر کا خطہ ہمیشہ سے مختلف تہذیبوں کا سنگم رہا ہے۔ آریہ سے لے کر مغلوں تک، اور پھر انگریزوں کی آمد تک، ہر دور نے اس خطے کی فکری ساخت پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ مکمل پڑھیے
برصغیر پاک و ہند میں جس عظیم شخصیت نے تعلیم کو نئی عصری شکل دی اور اردو نثر کو ایک نیا اسلوب اور نئی صورت عطا کی، وہ سرسید احمد خان ہیں۔ جدید تعلیم کے متحرک داعی اور جدید اردو نثر کے بانی کی حیثیت سے سرسید نے نہ صرف طرزِ تحریر کو بدلا، بلکہ ہندوستان کے مسلمانوں کے طرزِ احساس اور فکر کو بھی ایک نئی سمت دی۔ مکمل پڑھیے
ہر چند یہ ناول ہے جو عورت کی حیثیت عہد بہ عہد بیان کرتا ہے۔ مصنف کے حتی المقدور ان تمام پہلوؤں کو واضح کیا گیا ہے جس کا سامنا عورت کو کرنا پڑا۔ یہ ناول پلاٹ، کردار، آغاز و انجام سے وراء ہے یعنی روایتی ناولوں سے ہٹ کر ہے۔مکمل پڑھیے
ایک ادبی مبصر ادب میں جب نظریات کا شور حد سے بڑھ جائے، تو شاعری اکثر ایک سیاسی منشور یا سماجی بیان بن کر رہ جاتی ہے ۔ ایسے میں کچھ تخلیق کار ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی مقبول برانڈ کا حصہ بننے کے بجائے غزل کو اس کی خالص اور روایتی مٹی سے جوڑے رکھتے ہیں ۔مکمل پڑھیے
انسانی تاریخ حکمرانی کے نت نئے تجربات اور نظریات کی آمیزش سے عبارت ہے۔ شخصی آمریتوں اور ملوکیت کے طویل اندھیروں کے بعد جس نظامِ فکر نے عصرِ حاضر کے انسان کو سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ جمہوریت ہے۔ لغوی اعتبار سے یہ انگریزی لفظ "Democracy" کا ترجمہ ہے، جو یونانی الفاظ "Demo" (عوام) اور "Cracy" (حاکمیت) سے مل کر بنا ہے۔ مکمل پڑھیے
اردو غزل محض ایک صنفِ سخن نہیں بلکہ یہ برصغیر کی تہذیبی، سیاسی اور نفسیاتی تاریخ کا ایک زندہ جاوید صحیفہ ہے ۔ ولی دکنی سے شروع ہونے والا یہ خوبصورت سفر جب میر تقی میر کے عہد میں پہنچا تو غزل کو اپنی اصل شناخت اور "دل و دلی" کا مرثیہ میسر آیا ۔ غزل کی اس کائنات میں میر تقی میر، مرزا اسد اللہ خان غالب، ناصر کاظمی اور فیض احمد فیض وہ چار بنیاد ساز ستون ہیں جن پر اردو کی شعری روایت کا قصرِ رفیع ایستادہ ہے۔ مکمل پڑھیے
جب عالمی طاقتوں کے درمیان بارود کی بو پھیلتی ہے اور پھر سفارت کاری کی میز پر امن کے معاہدے طے پاتے ہیں، تو تاریخ نویس عموماً صرف تاریخیں، اعداد و شمار اور جغرافیائی تبدیلیوں کو محفوظ کرتے ہیں۔ حال ہی میں ایران اور امریکہ کے درمیان چھڑنے والے تنازعے اور پھر پاکستان کی کامیاب ثالثی (اسلام آباد مذاکرات) کے بعد، سیاسی، تزویراتی اور معاشی تجزیوں کا ایک طوفان برپا ہے۔ لیکن ایک محقق کی نظر جب ان واقعات کا جائزہ لیتی ہے، تو وہ ان روایتی زاویوں سے آگے بڑھ کر اس 'ثقافتی حاشیے' (Cultural Marginalia) کی کھوج میں نکلتی ہے جہاں جنگ اور امن کی اصل قیمت سماج اور زبان ادا کرتے ہیں۔ مکمل پڑھیے
علامہ محمد اقبال کی شہرہ آفاق نظمیں "شکوہ" اور "جوابِ شکوہ" بیسویں صدی کے اوائل میں مسلم قوم کے زوال اور ان کی اصلاح کے مروجہ افکار کی بہترین عکاس ہیں۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ نظم "شکوہ" اپریل 1911ء میں انجمن حمایتِ اسلام کے سالانہ اجلاس کے دوران ریواز ہوسٹل، لاہور کے صحن میں پڑھی گئی تھی۔ خلافِ معمول اقبال نے یہ نظم تحت اللفظ میں پڑھی مگر ان کا انداز اور لہجہ اتنا جرات مندانہ اور سحر انگیز تھا کہ سننے والے دنگ رہ گئے.مکمل پڑھیے
تاریخِ انسانی کا عمیق مطالعہ اس امر کا غماز ہے کہ طاقت اور تسلط کے مراکز وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ہیئت اور خدوخال تبدیل کرتے رہے ہیں۔ ایک وہ دور تھا جب اقوام پر غلبہ پانے اور انہیں زیرِ نگیں کرنے کے لیے لشکروں اور شمشیر و سناں کا سہارا لیا جاتا تھا، اور باقاعدہ جغرافیائی سرحدوں کو پامال کر کے طوقِ غلامی پہنایا جاتا تھا۔ تاہم، اکیسویں صدی کے اس جدید اور نام نہاد مہذب دور میں استعمار نے ایک نیا اور کہیں زیادہ خطرناک لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ آج کے عالمی کا سب سے سنگین اور خاموش مسئلہ وہ معاشی استعمار اور فکری تسلط ہے جس نے پاکستان سمیت پوری تیسری دنیا کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں نہ توپیں چلتی ہیں، نہ سرحدیں ٹوٹتی ہیں اور نہ ہی خون بہتا ہے، مگر پوری کی پوری قومیں اپنی خود مختاری کی قیمت چکا کر اس عالمی بساط کا خاموش ایندھن بن رہی ہیں۔مکمل پڑھیے
اردو ادب کے آسمان پر ایک درخشندہ ستارے کی مانند ابھرنے والے پروفیسر حامدی کاشمیری کا اصل نام حبیب اللہ تھا، جب کہ علمی و ادبی حلقوں میں انہوں نے اپنے تخلص حامدی کاشمیری سے شہرت پائی۔ ان کی ولادت ۲۹ جنوری ۱۹۳۲ء کو سری نگر کے علاقے بہوری کدل کی قدیم بستی میں ہوئی، اور وہیں والدین کے زیرِ سایہ ان کی پرورش ہوئی۔مکمل پڑھیے
بچپن کا زمانہ بھی عجیب ہوتا ہے,تجسس سے بھرپور، معصوم اور سوالوں سے لدا ہوا۔ اس عمر میں ہمارے سامنے جو بات بھی آتی ہے، ہم اسے نہ صرف پورے دھیان سے سنتے ہیں بلکہ سچ مان کر ذہن کے نہاں خانے میں محفوظ کر لیتے ہیں۔ مکمل پڑھیے
کائنات کے مظاہر ہمیشہ سے انسان کے لیے حیرت اور تفکر کا باعث رہے ہیں۔ قرآنِ مجید بار بار ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم آسمانوں، زمین اور سمندروں کی تخلیق میں غور و فکر کریں تاکہ خالقِ حقیقی کی عظمت اور اس کی قدرتِ کاملہ کا ادراک ہو سکے۔ مکمل پڑھیے
اردو زبان و ادب کی برصغیر میں ارتقائی تاریخ کا مطالعہ مولوی عبدالحق (1870ء–1961ء) کی ہمہ گیر شخصیت کے بغیر تشنہ رہتا ہے۔ سرسید احمد خان، مولانا الطاف حسین حالی، نواب محسن الملک اور جسٹس محمود کے علمی اثرات کی چھاؤں میں تربیت پانے والے اس بانیِ ادب نے اپنی نوے سالہ طویل عمر کا بیشتر حصہ اردو زبان کی ترویج، تحفظ اور بیداریِ قوم کے لیے وقف کر دیا۔ مکمل پڑھیے
تحقیق کا بنیادی مقصد کسی بھی معاملے یا واقعے کو اس کی اصل اور حقیقی شکل میں دیکھنے اور دکھانے کی شعوری کوشش کرنا ہے. یہ کوشش لازمی نہیں کہ ہمیشہ صد فیصد کامیاب ہو؛ اس میں جزوی یا کلی ناکامی کا امکان بھی رہتا ہے. بعض مفکرین کا یہ دعویٰ کہ ”خارجی حقیقت“ (Objective Reality) نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی، سراسر غلط اور ناقابلِ قبول ہے. مکمل پڑھیے
اردو زبان و ادب میں تحقیق کے معیار پر جب بھی بات ہوتی ہے تو عموماً ایک مایوسی کی فضا طاری ہو جاتی ہے۔ یہ تاثر عام ہے کہ ہمارے ہاں تحقیق کے نام پر اندھیر نگری مچی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ لیکن اگر زمینی حقائق کا بغور جائزہ لیا جائے تو صورتحال اتنی بھی آزاد نہیں ہے۔مکمل پڑھیے
مستنصر حسین تارڑ کا ناول "پیار کا پہلا شہر" پڑھتے ہوئے بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ قاری صرف ایک کہانی نہیں پڑھ رہا بلکہ ایک پوری دنیا میں داخل ہو رہا ہے۔ اس ناول میں کہانی بھی ہے، سفر کی کیفیت بھی، محبت بھی، ہلکا پھلکا مزاح بھی اور مشرق و مغرب کے سماجی رویوں کا فرق بھی۔ مکمل پڑھیے
اردو نثر کی مختلف اصناف میں سفرنامہ ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ اچھا سفرنامہ صرف راستوں، شہروں اور عمارتوں کی تفصیل نہیں دیتا، بلکہ اس میں مسافر کے مشاہدات، لوگوں سے ملاقاتیں، مختلف معاشرتی رویے اور خود اس کے اندر پیدا ہونے والے احساسات بھی شامل ہوتے ہیں۔ مکمل پڑھیے
ڈیجیٹل دور نے انسانی زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ معلومات کے حصول، تفریح، تعلیم اور سماجی روابط کے طریقے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ ان تبدیلیوں میں سب سے نمایاں رجحان شارٹ ویڈیوز کا ہے۔ چند سیکنڈز سے لے کر ایک منٹ تک کی یہ مختصر ویڈیوز آج دنیا بھر میں کروڑوں افراد کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ ٹک ٹاک، انسٹاگرام ریلز، یوٹیوب شارٹس اور دیگر پلیٹ فارمز نے ایسے مواد کو عام کر دیا ہے جو فوری طور پر صارف کی توجہ حاصل کرتا ہے۔ اگرچہ یہ ویڈیوز تفریح اور معلومات کی فوری فراہمی کا مؤثر ذریعہ ہیں، لیکن ان کے مسلسل استعمال نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے: کیا شارٹ ویڈیوز ہماری توجہ کا دورانیہ کم کر رہی ہیں؟ مکمل پڑھیں
موجودہ دور کو ڈیجیٹل انقلاب کا دور کہا جاتا ہے۔ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ نے نہ صرف لوگوں کے طرزِ زندگی کو تبدیل کیا ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔ انہی مواقع میں فری لانسنگ ایک نمایاں شعبہ ہے جس نے دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے کامیابی کے نئے راستے کھول دیے ہیں۔ آج ایک نوجوان گھر بیٹھے اپنی مہارتوں کی بنیاد پر ملکی اور غیر ملکی اداروں کو خدمات فراہم کر سکتا ہے اور معقول آمدنی حاصل کر سکتا ہے۔مکمل پڑھیں
پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قومیں صرف اقتدار کی تبدیلی سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ مضبوط نظریات، عوامی اعتماد اور جمہوری اداروں کے استحکام سے آگے بڑھتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست میں اکثر اوقات نظریات کی جگہ شخصیات، عوامی خدمت کی جگہ ذاتی مفادات اور قومی ترجیحات کی جگہ وقتی سیاسی فائدے نے لے لی ہے۔ ایسے حالات میں یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ سیاست کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے مکمل پڑھیں
انسانی زندگی میں بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں جو شور نہیں مچاتے، مگر خاموشی سے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔ نیند کی کمی بھی انہی مسائل میں سے ایک ہے۔ یہ نہ تو کسی وبا کی طرح اچانک خبروں کی زینت بنتی ہے اور نہ ہی اس کے اثرات فوری طور پر نمایاں ہوتے ہیں، لیکن آہستہ آہستہ یہ نوجوان نسل کی جسمانی صحت، ذہنی صلاحیتوں اور جذباتی استحکام کو متاثر کرتی چلی جاتی ہے۔
انسان فطرتاً ایک سماجی مخلوق ہے۔ اسے نہ صرف لوگوں کی موجودگی درکار ہوتی ہے بلکہ جذباتی وابستگی، توجہ اور احساسِ تعلق بھی اس کی بنیادی ضرورت ہیں۔ ماضی میں لوگ ایک دوسرے سے مل بیٹھ کر اپنے دکھ سکھ بانٹتے تھے، گھنٹوں گفتگو کرتے تھے اور رشتوں کی گرمی کو محسوس کرتے تھے۔ مگر آج کے ڈیجیٹل دور میں حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ مکمل پڑھیں
اردو عکس میگزین اردو زبان و ادب کا ایک آن لائن ادبی و علمی پلیٹ فارم ہے جہاں تخلیقی ادب، تحقیق، تنقید، شاعری، افسانہ، کالم، تہذیب، تاریخ اور سماجی موضوعات پر معیاری تحریریں شائع کی جاتی ہیں۔ اس کا مقصد سنجیدہ قارئین، لکھاریوں، طلبہ اور محققین کو اردو زبان میں متنوع اور قابلِ مطالعہ مواد ایک جگہ فراہم کرنا ہے۔
میگزین میں غزل، نظم، افسانہ، کہانی، کالم، طنز و مزاح، ادبی تنقید، تحقیقی و تجزیاتی مضامین، تہذیب و تاریخ اور فنونِ لطیفہ سے متعلق تحریریں شامل کی جاتی ہیں۔ معروف اہلِ قلم کے ساتھ نئے اور ابھرتے ہوئے لکھنے والوں کو بھی اپنی تخلیقی اور فکری صلاحیت پیش کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔
یہ میگزین اردو ادب سے دلچسپی رکھنے والے قارئین، طلبہ، اساتذہ، محققین، شعراء، افسانہ نگاروں، کالم نویسوں اور نئے لکھنے والوں کے لیے ہے۔ کوشش یہ ہے کہ ادبی تخلیق کے ساتھ تحقیق، تنقیدی فکر، تہذیبی شعور اور زبان کے معیاری استعمال کو بھی فروغ دیا جائے۔
اردو عکس میگزین میں بالخصوص غزل، نظم، افسانہ، کالم، طنز و مزاح، تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ اور تہذیب و تاریخ کے لیے الگ گوشے موجود ہیں۔ اس طرح قارئین اپنی دلچسپی کے مطابق ادبی اور علمی مواد تک آسانی سے پہنچ سکتے ہیں۔
جی ہاں۔ اردو عکس نئے اور ابھرتے ہوئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ قابلِ اشاعت تحریروں کو ادبی معیار، موضوع، زبان اور پیشکش کو سامنے رکھتے ہوئے اشاعت کے لیے دیکھا جاتا ہے۔
شاعر، ادیب، کالم نگار، محقق اور دیگر لکھاری “تحریر ارسال کریں” کے صفحے کے ذریعے اپنی تحریر اردو عکس کو بھیج سکتے ہیں۔ تحریر کے ساتھ مصنف کا نام اور ضروری تعارف فراہم کرنا مناسب ہے۔
اردو عکس میگزین کی تمام شائع شدہ تحریریں اس کے مخصوص میگزین پلیٹ فارم پر دستیاب ہیں، جہاں قارئین مختلف ادبی اصناف اور موضوعات کے مطابق مواد پڑھ سکتے ہیں۔